:اللہ تعالٰی کے حقوق درج ذیل ہیں
اللہ کا سب سے پہلا حق یہ ہے کہ انسان صرف اسی کو خدا مانے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے۔ یہ حق کلمہ “لاالہ الا
اللہ” پر ایمان لانے سے ادا ہوجاتا ہے۔
خدا کا دوسرا حق یہ ہے کہ جو ہدایت اس کے طرف سے آئے اس کو سچے دل سے تسلیم کیا جائے۔جوہدایت اس کی طرف سے آئے
اس کو سچے دل سے تسلیم کیا جائے۔ یہ حق محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے سے ادا ہوتا ہے اور اس کی تفصیل بھی ہم نے
تم کو پہلے بتادی ہے۔
خدا کا تیسرا حق یہ ہے کہ اس کی فرماں برداری کی جائے۔ یہ حق اس قانون کی پیروی سے ادا ہوجاتا ہے جو خدا کی کتاب اور
رسول کی سنت میں بیان ہوا ہے اس کی طرف بھی ہم پہلے اشارہ کرچکے ہیں ۔
خدا کا چوتھا حق یہ ہے کہ اس کی عبادت کی جائے۔اسی حق کو ادا کرنے کے لیے وہ فرائض انسان پر عائد کئے گئے ہیں جن کا
ذکر پچھلے باب میں کیاگیا ہے۔کیونکہ یہ حق تمام حقوق پر مقدم ہے اس لیے اس کو ادا کرنےم یں دوسرے حقوق کی قربانی
کسی نہ کسی حد تک ضروری ہے۔
مثلاً نماز روزہ وغیرہ فرائض کو ادا کرنے میں انسان خود اپنے نفس اور جسم کے بہت سے حقوق قربان کرتا ہے۔ نماز کے
انسان صبح اٹھتا ہے اور ٹھنڈے پانی سے وضو کرتا ہے، دن اور رات میں کئی بار اپنے ضروری کام اور اپنی دلچسپ تفریحات کو
چھوڑتا ہے، رمضان میں مہینہ بھر بھوک پیاس اور خواہشات کو روکنے کی تکلیف اٹھاتا ہے،زکوٰۃ ادا کرنے میں اپنے مال کی محبت
کو خدا کی محبت پر قربان کرتا ہے۔
حج میں سفر کی تکلیف اور مال کی قربانی گوارا کرتا ہے، جہاد میں خود اپنی جان اور مال قربان کردیتا ہے اسی طرح دوسرے لوگوں
کے حقوق بھی خدا کے کم و بیش قربان کیے جاتے ہیں ، مثلاً نماز میں ایک ملازم اپنے آقا کا کام چھوڑ کر اپنے بڑے آقا کی
عبادت کے لیے جاتا ہے۔ حج میں ایک شخص سارے کاروبار ترک کرکے مکہ معظمہ کا سفر کرتا ہے اور اس میں بہت سے لوگوں
کے حقوق متاثر ہوتے ہیں ۔
جہاد میں انسان محض خدا کی خاطر جان لیتا ہے اور جان دیتا ہے۔ اسی طرح بہت سی وہ چیزیں بھی اللہ کے حق پر فدا کی
جاتی ہیں جو انسان کے اختیار میں ہیں ۔ مثلاً جانوروں کی قربانی اور مال کا صرفہ۔
لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے حقوق کے لیے ایسی حدیں قرر کردی ہیں کہ اس کے جس حق کو ادا کرنے کیے دوسرے حقوق کی
جتنی قربانی ضروری ہے اس سے زیادہ نہ کی جائے۔ مثلاً نماز کو لو، خدا نے جو نمازیں تو پر فرض کردی ہیں ان کو ادا کرنے میں
ہر طرح کی سہولتیں رکھی ہیں ۔
وضو کے لیے پانی نہ ملے، یا بیمار ہو تو تیمم کرلو، سفر میں ہو تو نماز قصر کردو، بیمار ہو تو بیٹھ کر یا لیٹ کر پڑھ لو۔ پھر نماز میں
جو کچھ پڑھا جاتا ہے وہ بھی اتنا زیادہ نہیں ہے کہ ایک وقت کی نماز میں چند منٹ سے زیادہ صرف ہوں ۔ سکون کے اوقات
میں انسان چاہے تو پوری سورہ بقرہ پڑھ لیے، مگر کاروبار کے اوقات میں لمبی نماز پڑھنے سے روک دیا گیا ہے۔ پھر فرض
نمازوں سے بڑھ کر اگر کوئی شخص نفل نمازیں پڑھنا چاہے تو خدا اس سے خوش ہوتا ہے۔مگر خدا یہ نہیں چاہتا کہ تم راتوں کی
نیند اور دن کا آرام اپنے اوپرحرام کرلو، یا اپنی روزی کمانے کے اوقات کو نمازیں پڑھنے میں صرف کردو، یا بندگان خدا کے
حقوق تلف کرکے نمازیں پڑھتے چلے جاؤ۔
اسی طرح روزے میں بھی ہر قسم کی آسانیاں رکھی گئی ہیں ۔ صرف سال میں ایک مہینہ کے روزے فرض کئے گئے ہیں ، وہ
بھی سفر کی حالت میں اور بیماری میں قضا کئے جاسکتے ہیں ۔ اگر روزہ دار بیمار ہوجائے اور جان کو خوف ہو توروزہ توڑ سکتا
ہے۔ روزے کے لیے جتنا وقت مقرر کیا گیاہے اس میں ایک منٹ کا اضافہ کرنا بھی درست نہیں ۔
سحری کے آخری وقت تک کھانے کی اجازت ہے اور افطار کا وقت آتے ہی فوراً روزہ کھول لینے کا حکم ہے۔ فرض روزوں کے
علاوہ اگر کوئی شخص نفلی روزے رکھے تو یہ خدا کی مزید خوشنودی کا سبب ہوگا۔ مگر خدا اس کو پسند نہیں کرتا کہ تم پے در پے
روزے رکھتے چلے جاؤ اور اپنے آپ کو اتنا کمزور کرلو کہ دنیا کے کام کاج نہ کرسکو۔
زکوٰۃ کے لیے بھی خدا نے کم سے کم مقدار مقرر کی ہے، اور وہ بھی ان لوگوں پر فرض ہے جو بقدر نصاب مال رکھتے ہیں ۔ اس سے
زیادہ اگر کوئی شخص خدا کی راہ میں صدقہ و خیرات کرے تو خدا اس سے خوش ہوگا۔ مگر خدا یہ نہیں چاہتا کہ تم اپنے نفس اور
اپنے متعلقین کے حقوق کو قربان کرکے سب کچھ صدقہ و خیرات میں دے ڈالو، اور خود تنگ دست ہوکر بیٹھ رہو۔ اس میں
بھی اعتدال برتنے کا حکم ہے۔
پھر حج کو دیکھو! اول تو یہ فرض ہی ان لوگوں پر کیا گیا ہے جو زاد راہ رکھتے ہوں اور سفر کی صعوبتیں برداشت کرنے کے قابل
ہوں ، پھر اس میں مزید آسانی یہ رکھی گئی ہے کہ عمر بھر میں ایک مرتبہ، جب سہولت ہو جاسکتے ہو اور اگر راستہ میں لڑائی
ہورہی ہو، یا بدامنی ہو کہ جان کا خطرہ غالب ہو تو حج کا ارادہ ملتوی کرسکتے ہو۔
اس کے ساتھ والدین کی اجازت بھی ضروری قرار دی گئی ہے تاکہ بوڑھے ماں باپ کو تمہاری غیر موجودگی میں تکلیف نہ ہو۔
ان سب باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حق میں دوسروں کے حقوق کا کس قدر لحاظ رکھا ہے۔
اللہ کے حق پر انسانی حقوق کی سب سے بڑی قربانی جہاد میں کی جاتی ہے، کیونکہ اس میں انسان اپنی جان اور مال بھی خدا
کی رہ میں فدا کرتا ہے اور دوسروں کی جان و مال کو بھی قربان کردیتا ہے ۔ مگر جیسا کہ ہم نے اوپر تمہیں بتایا ہے، اسلام کا
اصول یہ ہے کہ بڑے نقصان سے بچنے کے لیے چھوٹے نقصان کو گوارہ کرنا چاہیے، اس اصول کو پیش نظر رکھو اور پھر دیکھو کہ
چند سو یا چند ہزار یا چند لاکھ آدمیوں کے ہلاک ہوجانے کی بہ نسبت بدرجہا زیادہ بڑا نقصان یہ ہے کہ حق کے مقابلہ میں باطل کو
فروغ ہو، خدا کا دین کفر و شرک اور دہریت کے مقابلہ میں دب کر رہے اور دنیا میں گمراہیاں اور بداخلاقیاں پھیلیں ۔
لہذا اس بڑے نقصان سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ جان و مال کے کم تر نقصان کو ہماری خوشنودی کے
# لیے گوارا کرلو، مگر اس کے ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ جتنی خوں ریزی ضروری ہے اس سے زیادہ نہ کرو۔ بوڑھوں ، بچوں اور
عورتوں اور زخمیوں اور بیماروں پر ہاتھ نہ اٹھاؤ۔ صرف ان لوگوں سے لڑو جو باطل کی حمایت میں تلوار اٹھاتے ہیں ۔ دشمن
ملک میں بلا ضرورت تباہی و بربادی نہ پھیلاؤ۔دشمنوں پر فتح پاؤ تو ان کے ساتھ انصاف کرو۔ کسی بات پر ان سے معاہدہ
ہوجائے تو اس کی پابندی کرو۔ جب وہ حق کی دشمنی سے باز آجائیں تو لڑائی بند کردو۔ یہ سب باتیں ظاہر کرتی ہیں کہ خدا کا
حق ادا کرنے کے لیے انسانی حقوق کی جتنی قربانی ضروری ہے اس سے زیادہ قربانی کو جائز نہیں رکھا۔

0 Comments